جھپٹتے ہیں جھپٹنے کے لیے پرواز کرتے ہیں

خالد محمود

جھپٹتے ہیں جھپٹنے کے لیے پرواز کرتے ہیں

خالد محمود

MORE BY خالد محمود

    جھپٹتے ہیں جھپٹنے کے لیے پرواز کرتے ہیں

    کبوتر بھی وہی کرنے لگے جو باز کرتے ہیں

    وہی قصے وہی باتیں کہ جو غماز کرتے ہیں

    ترے ہم راز کرتے ہیں مرے دم ساز کرتے ہیں

    بصد حیلے بہانے ظلم کا در باز کرتے ہیں

    وہی جاں باز جن پر ہر گھڑی ہم ناز کرتے ہیں

    زیادہ دیکھتے ہیں جب وہ آنکھیں پھیر لیتے ہیں

    نظر میں رکھ رہے ہوں تو نظر انداز کرتے ہیں

    ستایش گھر کے پنکھوں سے ہوا تو کم ہی آتی ہے

    مگر چلتے ہیں جب ظالم بہت آواز کرتے ہیں

    زمانے بھر کو اپنا راز داں کرنے کی ٹھہری ہے

    تو بہتر ہے چلو اس شوخ کو ہم راز کرتے ہیں

    ڈراتا ہے بہت انجام نمرودی مجھے خالدؔ

    خدا لہجے میں جب بندے سخن آغاز کرتے ہیں

    RECITATIONS

    خالد محمود

    خالد محمود

    خالد محمود

    جھپٹتے ہیں جھپٹنے کے لیے پرواز کرتے ہیں خالد محمود

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY