جھیل میں اس کا پیکر دیکھا جیسے شعلہ پانی میں

ظفر حمیدی

جھیل میں اس کا پیکر دیکھا جیسے شعلہ پانی میں

ظفر حمیدی

MORE BYظفر حمیدی

    جھیل میں اس کا پیکر دیکھا جیسے شعلہ پانی میں

    زلف کی لہریں پیچاں جیسے ناگ ہو لپکا پانی میں

    چاندنی شب میں اس کے پیچھے جب میں اترا پانی میں

    چاندی اور سیماب لگا تھا پگھلا پگھلا پانی میں

    کتنے رنگ کی مچھلیاں آئیں للچاتی اور بل کھاتی

    قطرہ قطرہ میری رگوں سے خون جو ٹپکا پانی میں

    روشن روشن رنگ نرالے کیسے نادر کتنے حباب

    قلزم ہستی رقص میں تھا یا ایک تماشا پانی میں

    ایک قلندر ڈھونڈ رہا تھا چاند ستاروں میں جا کر

    اس کا خدا تو پوشیدہ تھا عنقا جیسا پانی میں

    مجھ کو یہ محسوس ہوا تھا اپنے عہد کا خضر ہوں میں

    چپکے چپکے جب بھی میں نے خضر کو ڈھونڈا پانی میں

    آلائش داغوں سے بھرا یہ تیرا بدن اک روز ظفرؔ

    رحمت کی گھٹا جب برسی تھی تو صاف ہوا تھا پانی میں

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    جھیل میں اس کا پیکر دیکھا جیسے شعلہ پانی میں نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY