جھلستے لمحوں کا لمس لے کر میں چل رہا ہوں
جھلستے لمحوں کا لمس لے کر میں چل رہا ہوں
خود اپنی دوزخ کی آگ کھا کر میں پل رہا ہوں
سفر کی روداد بھی مری کچھ عجیب سی ہے
میں اخضری پہاڑیوں سے گر کر سنبھل رہا ہوں
مرا وجود و عدم بھی اک حادثہ نیا ہے
میں دفن ہوں کہیں کہیں سے نکل رہا ہوں
چتا بجھا دے کوئی کوئی استھیاں بہا دے
میں آرزو میں سحر کی صدیوں سے جل رہا ہوں
سمندروں کا سواد میری زبان پر ہے
میں سونگھ کر مچھلیوں کی خوشبو مچل رہا ہوں
نہیں ہے مامونؔ ساتھ میرے یہاں پہ کوئی
اکیلا ہی زندگی کی راہوں پہ چل رہا ہوں
مأخذ:

Sanson Ke Paar (Pg. 145)
- مصنف: Khalil Mamoon
-
- اشاعت: 1976
- ناشر: Educational Publishing House, Delhi
- سن اشاعت: 1976
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.