جدھر بھی دیکھیں وہی رویے منافقوں کے

صفدر ہمدانی

جدھر بھی دیکھیں وہی رویے منافقوں کے

صفدر ہمدانی

MORE BYصفدر ہمدانی

    جدھر بھی دیکھیں وہی رویے منافقوں کے

    سمجھ میں دکھ ہم کو آ رہے ہیں پیمبروں کے

    کھلی ہوئی ہیں جو کھڑکیاں وہ بھی ادھ کھلی ہیں

    نہ جانے کب سے ہیں در مقفل یہاں گھروں کے

    انا مری ہے ابھی بھی ہر مصلحت پہ حاوی

    لہو میں اترے ہیں تجربے سب مسافتوں کے

    ناآشنا ہے ہر ایک شاخ شجر ثمر سے

    درخت سارے ڈسے ہوئے ہیں یہ بارشوں کے

    عجب تغیر پسند اس کی ہوئی ہے عادت

    بدلتے رہتے ہیں روز معیار چاہتوں کے

    اگی ہے فصل نجات جیسے خزاں میں صفدرؔ

    یوں سر بریدہ بدن پڑے ہیں مسافروں کے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY