جن زخموں پر تھا ناز ہمیں وہ زخم بھی بھرتے جاتے ہیں

شاذ تمکنت

جن زخموں پر تھا ناز ہمیں وہ زخم بھی بھرتے جاتے ہیں

شاذ تمکنت

MORE BY شاذ تمکنت

    جن زخموں پر تھا ناز ہمیں وہ زخم بھی بھرتے جاتے ہیں

    سانسیں ہیں کہ گھٹتی جاتی ہیں دن ہیں کہ گزرتے جاتے ہیں

    دیوار ہے گم صم در تنہا پھر ہوتے چلے ہیں شجر تنہا

    کچھ دھوپ سی ڈھلتی جاتی ہے کچھ سائے اترتے جاتے ہیں

    ہم یوں ہی نہیں ہیں سست قدم ہم جانتے ہیں فردا کیا ہے

    شاید کوئی دے آواز ہمیں رہ رہ کے ٹھہرتے جاتے ہیں

    آواز وہ شیشۂ نازک ہے محراب نظر میں رہنے دے

    کیوں فرش سماعت پر گر کر ریزے یہ بکھرتے جاتے ہیں

    روئیں یا ہنسیں اس حالت پر احساس یہ ہوتا ہے اکثر

    وعدہ تو کسی سے شاذؔ نہ تھا ہم ہیں کہ مکرتے جاتے ہیں

    مآخذ:

    • Book : Kulliyat-e- Shaz Tamkanat (Pg. 559)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY