جس دن سے کوئی خواہش دنیا نہیں رکھتا

فراغ روہوی

جس دن سے کوئی خواہش دنیا نہیں رکھتا

فراغ روہوی

MORE BYفراغ روہوی

    جس دن سے کوئی خواہش دنیا نہیں رکھتا

    میں دل میں کسی بات کا کھٹکا نہیں رکھتا

    مجھ میں ہے یہی عیب کہ اوروں کی طرح میں

    چہرے پہ کبھی دوسرا چہرا نہیں رکھتا

    کیوں قتل مجھے کر کے ڈبوتے ہو ندی میں

    دو دن بھی کسی لاش کو دریا نہیں رکھتا

    کیوں مجھ کو لہو دینے پہ تم لوگ بہ ضد ہو

    میں سر پہ کسی شخص کا قرضا نہیں رکھتا

    احباب تو احباب ہیں دشمن کے تئیں بھی

    کم ظرف زمانے کا رویہ نہیں رکھتا

    یہ سچ ہے کہ میں غالبؔ ثانی نہیں لیکن

    یاران معاصر کا بھی لہجہ نہیں رکھتا

    بادل تو فراغؔ اصل میں ہوتا ہے وہ بادل

    جو پیاس کے صحرا کو بھی پیاسا نہیں رکھتا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے