جس کی نہ کوئی رات ہو ایسی سحر ملے

آشفتہ چنگیزی

جس کی نہ کوئی رات ہو ایسی سحر ملے

آشفتہ چنگیزی

MORE BYآشفتہ چنگیزی

    جس کی نہ کوئی رات ہو ایسی سحر ملے

    سارے تعینات سے اک دن مفر ملے

    افواہ کس نے ایسی اڑائی کہ شہر میں

    ہر شخص بچ رہا ہے نہ اس سے نظر ملے

    دشواریاں کچھ اور زیادہ ہی بڑھ گئیں

    گھر سے چلے تو راہ میں اتنے شجر ملے

    طے کرنا رہ گئی ہیں ابھی کتنی منزلیں

    جو آگے جا چکے ہیں کچھ ان کی خبر ملے

    ممکن ہے آڑے آئیں زمانہ شناسیاں

    تم بھی ہماری راہ میں حائل اگر ملے

    قضیہ ہو موسموں کا نہ دن کا نہ رات کا

    اب کے اگر ملے بھی تو ایسا سفر ملے

    لوگوں کو کیا پڑی تھی اٹھاتے اذیتیں

    صحرا کی خاک چھانتے آشفتہ سر ملے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY