جس کو نہ دل پہ ناز ہو ناز ترے اٹھائے کیوں

مخمور جالندھری

جس کو نہ دل پہ ناز ہو ناز ترے اٹھائے کیوں

مخمور جالندھری

MORE BYمخمور جالندھری

    جس کو نہ دل پہ ناز ہو ناز ترے اٹھائے کیوں

    اٹھ نہ سکے جو آستاں لے کے وہ سر جھکائے کیوں

    میں جو ترا حجاب ہوں کس لئے بے نقاب ہوں

    پردہ ہو جس کا چاک چاک پردے میں منہ چھپائے کیوں

    وہ جو نہ دل میں بھر سکے نور و ضیا کی بجلیاں

    پھول میں مسکرائے کیوں ذرے میں جگمگائے کیوں

    حسن تباہ کار ہے چاہے کسی بھی شے میں ہو

    ہو نہ فریب اگر حسیں کوئی فریب کھائے کیوں

    چھایا ہوا ہے جب تمام عالم‌ کائنات پر

    گوشۂ تنگ و تار میں دل کے وہ پھر سمائے کیوں

    حشر نئے اٹھائے کیوں حسن کو گر قرار ہو

    حسن جو بے سکوں نہ ہو فتنے نئے جگائے کیوں

    اب تو عیاں ہوئے بغیر جانے نہ پاؤ گے کبھی

    چھپ کے مری نظر سے تم خلوت دل میں آئے کیوں

    شوق ہو جس کا بے کراں دل سے بھی ہو جو بد گماں

    اپنی نگاہ کو بھی وہ جلوہ ترا دکھائے کیوں

    پیر مغاں شجیع ہو ظرف بھی جب وسیع ہو

    بادہ کش نگاہ مست نشے میں لڑکھڑائے کیوں

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY