جس کو سمجھے تھے تونگر وہ گداگر نکلا

انیس انصاری

جس کو سمجھے تھے تونگر وہ گداگر نکلا

انیس انصاری

MORE BYانیس انصاری

    INTERESTING FACT

    (28نومبر،2007،لکھنؤ)

    جس کو سمجھے تھے تونگر وہ گداگر نکلا

    ظرف میں کاسۂ درویش سمندر نکلا

    کبھی درویش کے تکیہ میں بھی آ کر دیکھو

    تنگ دستی میں بھی آرام میسر نکلا

    مشکلیں آتی ہیں آنے دو گزر جائیں گی

    لوگ یہ دیکھیں کہ کمزور دلاور نکلا

    جب گرفتوں سے بھی آگے ہو پہنچ مٹھی کی

    تب لگے گا کہ سمندر میں شناور نکلا

    کوئی موہوم سا چہرہ جو بلاتا ہے ہمیں

    بادلوں کی طرح شکلیں وہ بدل کر نکلا

    دل عجب چیز ہے کس مٹی میں جا کر بوئیں

    جڑ یوں پکڑے کہ لگے پیڑ تناور نکلا

    لاش قاتل نے کھلی پھینک دی چوراہے پر

    دیکھنے والا کوئی گھر سے نہ باہر نکلا

    دیکھنے میں تو دھنک چند ہی لمحے تھی انیسؔ

    سات رنگوں کا مگر دیدنی منظر نکلا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY