جس شجر پر ثمر نہیں ہوتا

کرامت بخاری

جس شجر پر ثمر نہیں ہوتا

کرامت بخاری

MORE BYکرامت بخاری

    جس شجر پر ثمر نہیں ہوتا

    اس کو پتھر کا ڈر نہیں ہوتا

    آنکھ میں بھی چمک نہیں ہوتی

    جب وہ پیش نظر نہیں ہوتا

    مے کدے میں یہ ایک خوبی ہے

    ناصحا تیرا ڈر نہیں ہوتا

    اب تو بازار بھی ہیں بے رونق

    کوئی یوسف ادھر نہیں ہوتا

    جو صدف ساحلوں پہ رہ جائے

    اس میں کوئی گہر نہیں ہوتا

    آہ تو اب بھی دل سے اٹھتی ہے

    لیکن اس میں اثر نہیں ہوتا

    غم کے ماروں کا جو بھی مسکن ہو

    گھر تو ہوتا ہے پر نہیں ہوتا

    اہل دل جو بھی کام کرتے ہیں

    اس میں شیطاں کا شر نہیں ہوتا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY