جس طرف نظر کیجے وحشتوں کا ساماں ہے

پیرزادہ قاسم

جس طرف نظر کیجے وحشتوں کا ساماں ہے

پیرزادہ قاسم

MORE BYپیرزادہ قاسم

    جس طرف نظر کیجے وحشتوں کا ساماں ہے

    زندگی ہی کیا اب تو خواب تک پریشاں ہے

    اک ہوائے بیتابی ہم کو لے اڑی ورنہ

    بال و پر کے پردے میں ہمت گریزاں ہے

    اے ہوائے غم تو نے سب دیے بجھا ڈالے

    پھر بھی خلوت جاں میں دور تک چراغاں ہے

    دار و گیر وحشت میں اب پناہ کیا ڈھونڈیں

    یہ زمین دامن ہے آسماں گریباں ہے

    میں ہوں جب تلک باقی یہ مکالمہ ہوگا

    اے حقیقت ہستی میرا نام انساں ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY