جس طرح بدلا ہوں میں بدلے گی کیا

منظر سلیم

جس طرح بدلا ہوں میں بدلے گی کیا

منظر سلیم

MORE BYمنظر سلیم

    جس طرح بدلا ہوں میں بدلے گی کیا

    میری بستی مجھ کو پہچانے گی کیا

    زخم سر ہے آپ اپنی داستان

    پتھروں سے زندگی پوچھے گی کیا

    تیرگی نے مسخ کر دیں صورتیں

    آنے والی روشنی دیکھے گی کیا

    ذہن میں رکنے نہیں پاتے خیال

    جسم کے اوپر قبا ٹھہرے گی کیا

    میں تو جاں دیتے ہوئے بھی ہنس پڑوں

    تلخی زہراب غم سوچے گی کیا

    دھوپ ایسی ہے کہ دریا سوکھ جائیں

    خون کے چھینٹوں سے رت بدلے گی کیا

    جی رہا ہوں دوسروں کے جسم میں

    موت جینے سے مجھے روکے گی کیا

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    جس طرح بدلا ہوں میں بدلے گی کیا نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY