جس طرح جھیل کے پانی میں سکوں تیرتا ہے

طارق عثمانی

جس طرح جھیل کے پانی میں سکوں تیرتا ہے

طارق عثمانی

MORE BYطارق عثمانی

    جس طرح جھیل کے پانی میں سکوں تیرتا ہے

    میری آنکھوں میں ترا عکس بھی یوں تیرتا ہے

    یوں ملوں تجھ سے کہ کچھ دیر میں تجھ سا ہو جاؤں

    گر کے دریا میں ذرا دیر ہی خوں تیرتا ہے

    جب بھی آواز لگاتا ہوں کہ تو ہے یا نہیں

    میرے اندر تری آواز میں ہوں تیرتا ہے

    جوش میں آ تو گیا ہجر کے سمندر تک

    دیکھنا ہے کہ کہاں تک یہ جنوں تیرتا ہے

    دل تری یاد کے دریا سے نکلتا ہی نہیں

    کھینچ لیتی ہے تہہ آب یہ جوں تیرتا ہے

    کیا ہوا عقل ٹھکانے پہ آ گئی پیارے

    ڈوبنے کے لئے کودا ہے تو کیوں تیرتا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے