جسے لوگ کہتے ہیں تیرگی وہی شب حجاب سحر بھی ہے

فراق گورکھپوری

جسے لوگ کہتے ہیں تیرگی وہی شب حجاب سحر بھی ہے

فراق گورکھپوری

MORE BYفراق گورکھپوری

    جسے لوگ کہتے ہیں تیرگی وہی شب حجاب سحر بھی ہے

    جنہیں بے خودئ فنا ملی انہیں زندگی کی خبر بھی ہے

    ترے اہل دید کو دیکھ کے کبھی کھل سکا ہے یہ راز بھی

    انہیں جس نے اہل نظر کیا وہ ترا خراب نظر بھی ہے

    یہ وصال و ہجر کی بحث کیا کہ عجیب چیز ہے عشق بھی

    تجھے پا کے ہے وہی درد دل وہی رنگ زخم جگر بھی ہے

    یہ نصیب عشق کی گردشیں کہ زماں مکاں سے گزر کے بھی

    وہی آسماں وہی شام غم وہی شام غم کی سحر بھی ہے

    ترے کیف حسن کی جان ہے مری بے دلی و فسردگی

    جسے کہتے ہیں غم رائگاں وہ لئے ہوئے کچھ اثر بھی ہے

    نہ رہا حیات کی منزلوں میں وہ فرق ناز و نیاز بھی

    کہ جہاں ہے عشق برہنہ پا وہیں حسن خاک بسر بھی ہے

    وہ غم فراق بھی کٹ گیا وہ ملال عشق بھی مٹ گیا

    مگر آج بھی ترے ہاتھ میں وہی آستیں ہے کہ تر بھی ہے

    دم حشر ازل کی بھی یاد کر یہ زبان کیا یہ نگاہ کیا

    جو کسی سے آج نہ ہو سکا وہ سوال بار دگر بھی ہے

    جو وصال و ہجر سے دور ہے جو کرم ستم سے ہے بے خبر

    کچھ اٹھا ہوا ہے وہ درد بھی کچھ اٹھی ہوئی وہ نظر بھی ہے

    یہ پتہ ہے اس کی عنایتوں نے خراب کتنوں کو کر دیا

    یہ خبر ہے نرگس نیم وا کہ گرہ میں فتنۂ شر بھی ہے

    اسی شام مرگ کی تیرگی میں ہیں جلوہ ہائے حیات بھی

    انہیں ظلمتوں کے حجاب میں یہ چمک یہ رقص شرر بھی ہے

    وہی درد بھی ہے دوا بھی ہے وہی موت بھی ہے حیات بھی

    وہی عشق ناوک ناز ہے وہی عشق سینہ سپر بھی ہے

    تو زماں مکاں سے گزر بھی جا تو رہ عدم کو بھی کاٹ لے

    وہ ثواب ہو کہ عذاب ہو کہیں زندگی سے مفر بھی ہے

    جو گلے تک آ کے اٹک گیا جسے تلخ کام نہ پی سکے

    وہ لہو کا گھونٹ اتر گیا تو سنا ہے شیر و شکر بھی ہے

    کوئی اہل دل کو کمی نہیں مگر اہل دل کا یہ قول ہے

    ابھی موت بھی نہیں مل سکی ابھی زندگی میں کسر بھی ہے

    بڑی چیز دولت و جاہ ہے بڑی وسعتیں ہیں نصیب اسے

    مگر اہل دولت و جاہ میں کہیں آدمی کا گزر بھی ہے

    یہ شب دراز بھی کٹ گئی وہ ستارے ڈوبے وہ پو پھٹی

    سر راہ غفلت خواب سے اب اٹھو کہ وقت سحر بھی ہے

    جو الٹ چکے ہیں بساط دہر کو اگلے وقتوں میں بارہا

    وہی آج گردش بخت ہے وہی رنگ دور قمر بھی ہے

    نہ غم عذاب و ثواب سے کبھی چھیڑ فطرت عشق کو

    جو ازل سے مست نگاہ ہے اسے نیک و بد کی خبر بھی ہے

    وہ تمام شکر و رضا سہی وہ تمام صبر و سکوں سہی

    تو ہے جس سے مائل امتحاں وہ فرشتہ ہے تو بشر بھی ہے

    نہ کہو تغافل‌ حسن سے کوئی کار سازیٔ غم کرے

    کہ جو آج غم سے نکل گئی وہ دعا خراب اثر بھی ہے

    ترے غم کی عمر دراز میں کئی انقلاب ہوئے مگر

    وہی طول شام فراقؔ ہے وہی انتظار سحر بھی ہے

    مأخذ :
    • کتاب : Naya daur (Pg. 235)
    • Author : Qamar Sultana

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY