جسم کا بوجھ کم کیا جائے

شاکر حسین اصلاحی

جسم کا بوجھ کم کیا جائے

شاکر حسین اصلاحی

MORE BYشاکر حسین اصلاحی

    جسم کا بوجھ کم کیا جائے

    سر ہمارا قلم کیا جائے

    چشم خوناب دیکھنا ہے اگر

    خون پانی میں ضم کیا جائے

    صرف اتنا سا مشورہ ہے مرا

    ہر کہیں سر نہ خم کیا جائے

    آنسوؤں سے لکھیں فسانۂ غم

    تھوڑا کاغذ بھی نم کیا جائے

    آ گئے ہیں وہ خواب گاہ میں اب

    ان چراغوں کو کم کیا جائے

    اب بھی کچھ اعتراض ہے مجھ کو

    غم دوبارہ رقم کیا جائے

    ایک شیطان نے کہا شاکرؔ

    اب مجھے محترم کیا جائے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY