جسم کا بوجھ اٹھائے ہوئے چلتے رہیے

معراج فیض آبادی

جسم کا بوجھ اٹھائے ہوئے چلتے رہیے

معراج فیض آبادی

MORE BYمعراج فیض آبادی

    جسم کا بوجھ اٹھائے ہوئے چلتے رہیے

    دھوپ میں برف کی مانند پگھلتے رہیے

    یہ تبسم تو ہے چہروں کی سجاوٹ کے لیے

    ورنہ احساس وہ دوزخ ہے کہ جلتے رہیے

    اب تھکن پاؤں کی زنجیر بنی جاتی ہے

    راہ کا خوف یہ کہتا ہے کہ چلتے رہیے

    زندگی بھیک بھی دیتی ہے تو قیمت لے کر

    روز فریاد کا انداز بدلتے رہیے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY