جسم کے نیزے پر جو رکھا ہے

منظر سلیم

جسم کے نیزے پر جو رکھا ہے

منظر سلیم

MORE BYمنظر سلیم

    جسم کے نیزے پر جو رکھا ہے

    اس مرے سر میں جانے کیا کیا ہے

    بت بنایا مرے ہنر نے مجھے

    میرے ہاتھوں نے مجھ کو توڑا ہے

    بستیاں اجڑی ہیں تو سناٹا

    میری آواز میں سمایا ہے

    میں بھی بے جڑ کا پیڑ ہوں شاید

    مجھ کو بھی ڈر ہوا سے لگتا ہے

    شہر میں کچھ عمارتوں کے سوا

    اب مرا کون ملنے والا ہے

    کہنے سننے کو کچھ نہیں باقی

    ملنا جلنا عجب سا لگتا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY