جسم کی ہر بات ہے آوارگی یہ مت کہو

جاں نثاراختر

جسم کی ہر بات ہے آوارگی یہ مت کہو

جاں نثاراختر

MORE BY جاں نثاراختر

    جسم کی ہر بات ہے آوارگی یہ مت کہو

    ہم بھی کر سکتے ہیں ایسی شاعری یہ مت کہو

    اس نظر کی اس بدن کی گنگناہٹ تو سنو

    ایک سی ہوتی ہے ہر اک راگنی یہ مت کہو

    ہم سے دیوانوں کے بن دنیا سنورتی کس طرح

    عقل کے آگے ہے کیا دیوانگی یہ مت کہو

    کٹ سکی ہیں آج تک سونے کی زنجیریں کہاں

    ہم بھی اب آزاد ہیں یارو ابھی یہ مت کہو

    پاؤں اتنے تیز ہیں اٹھتے نظر آتے نہیں

    آج تھک کر رہ گیا ہے آدمی یہ مت کہو

    جتنے وعدے کل تھے اتنے آج بھی موجود ہیں

    ان کے وعدوں میں ہوئی ہے کچھ کمی یہ مت کہو

    دل میں اپنے درد کی چھٹکی ہوئی ہے چاندنی

    ہر طرف پھیلی ہوئی ہے تیرگی یہ مت کہو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY