جسم پر کھردری سی چھال اگا

صادق

جسم پر کھردری سی چھال اگا

صادق

MORE BYصادق

    جسم پر کھردری سی چھال اگا

    آنکھ کی پتلیوں میں بال اگا

    تیر برسا ہی چاہتے ہیں سنبھل

    اپنے ہاتھوں میں ایک ڈھال اگا

    کاٹ آگاہیوں کی فصل مگر

    ذہن میں کچھ نئے سوال اگا

    دوش و فردا کو ڈال گڈھے میں

    کھاد سے ان کی روز حال اگا

    بڑھی جاتی ہیں مانس کی فصلیں

    ان زمینوں پہ کچھ اکال اگا

    چکھ چکا ذائقے عروجوں کے

    اب زباں پر کوئی زوال اگا

    مآخذ :
    • کتاب : kushaad (Pg. 106)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY