جو آئینے سے تیری جلوہ سامانی نہیں جاتی

انیس احمد انیس

جو آئینے سے تیری جلوہ سامانی نہیں جاتی

انیس احمد انیس

MORE BYانیس احمد انیس

    جو آئینے سے تیری جلوہ سامانی نہیں جاتی

    کسی بھی دیکھنے والے کی حیرانی نہیں جاتی

    کبھی اک بار ہولے سے پکارا تھا مجھے تم نے

    کسی کی مجھ سے اب آواز پہچانی نہیں جاتی

    بھری محفل میں مجھ سے پھیر لی تھیں بے سبب نظریں

    وہ دن اور آج تک ان کی پشیمانی نہیں جاتی

    پسے جاتے ہیں دل ہر گام پہ شور قیامت سے

    خرام ناز تیری فتنہ سامانی نہیں جاتی

    گوارا ہی نہ تھی جن کو جدائی میری دم بھر کی

    انہیں سے آج میری شکل پہچانی نہیں جاتی

    وہ میرے ہاتھ کا شوخی سے جانا ان کے دامن تک

    وہ ان کا ناز سے کہنا کہ نادانی نہیں جاتی

    گریباں اہل وحشت کے سیا کرتا تھا ہوش اک دن

    اور اب مجھ سے ہی میری چاک دامانی نہیں جاتی

    مأخذ :
    • کتاب : Saaz-o-nava (Pg. 62)
    • Author : aniis ahamd aniis
    • مطبع : Raghunath Sahaye

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY