جو چاہتی دنیا ہے وہ مجھ سے نہیں ہوگا

شہریار

جو چاہتی دنیا ہے وہ مجھ سے نہیں ہوگا

شہریار

MORE BYشہریار

    جو چاہتی دنیا ہے وہ مجھ سے نہیں ہوگا

    سمجھوتا کوئی خواب کے بدلے نہیں ہوگا

    اب رات کی دیوار کو ڈھانا ہے ضروری

    یہ کام مگر مجھ سے اکیلے نہیں ہوگا

    خوش فہمی ابھی تک تھی یہی کار جنوں میں

    جو میں نہیں کر پایا کسی سے نہیں ہوگا

    تدبیر نئی سوچ کوئی اے دل سادہ

    مائل بہ کرم تجھ پہ وہ ایسے نہیں ہوگا

    بے نام سے اک خوف سے دل کیوں ہے پریشاں

    جب طے ہے کہ کچھ وقت سے پہلے نہیں ہوگا

    مآخذ:

    • کتاب : sooraj ko nikalta dekhoon (Pg. 489)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY