جو در کھلا ہے شکستہ مکاں کا حصہ ہے

ماہر عبدالحی

جو در کھلا ہے شکستہ مکاں کا حصہ ہے

ماہر عبدالحی

MORE BYماہر عبدالحی

    جو در کھلا ہے شکستہ مکاں کا حصہ ہے

    مرا یقین فریب گماں کا حصہ ہے

    کہاں سے آئی حرم میں یہ خاک راہ گزر

    وہیں پہ ڈال دو اس کو جہاں کا حصہ ہے

    کسی شکستہ جگہ ٹھیک بیٹھتا ہی نہیں

    دل حزیں کا یہ ٹکڑا کہاں کا حصہ ہے

    سفر نصیب ہوں ساحل سے کیا غرض مجھ کو

    مرا سفینہ تو آب رواں کا حصہ ہے

    عجب اصول بنے ہیں یہاں تجارت کے

    کسی کا سود کسی کے زیاں کا حصہ ہے

    فضائے عالم انسانیت کا افسانہ

    کہیں زمین کہیں آسماں کا حصہ ہے

    اسے زمانے کی گردش مٹا نہیں سکتی

    یہ زندگی نفس‌ جاوداں کا حصہ ہے

    ولیؔ سے لے کے جو پھیلی ہے میرؔ و غالبؔ تک

    ہمارا قصہ اسی داستاں کا حصہ ہے

    فلک مثال ہے ماہرؔ ہماری بستی بھی

    ہمارا گھر بھی کسی کہکشاں کا حصہ ہے

    مآخذ
    • کتاب : Hari Sonahri Khak (Ghazal) (Pg. 33)
    • Author : Mahir Abdul Hayee
    • مطبع : Bazme-e-Urdu,Mau (2008)
    • اشاعت : 2008

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY