جو دکھ رہا اسی کے اندر جو ان دکھا ہے وہ شاعری ہے

احمد سلمان

جو دکھ رہا اسی کے اندر جو ان دکھا ہے وہ شاعری ہے

احمد سلمان

MORE BYاحمد سلمان

    جو دکھ رہا اسی کے اندر جو ان دکھا ہے وہ شاعری ہے

    جو کہہ سکا تھا وہ کہہ چکا ہوں جو رہ گیا ہے وہ شاعری ہے

    یہ شہر سارا تو روشنی میں کھلا پڑا ہے سو کیا لکھوں میں

    وہ دور جنگل کی جھونپڑی میں جو اک دیا ہے وہ شاعری ہے

    دلوں کے مابین گفتگو میں تمام باتیں اضافتیں ہیں

    تمہاری باتوں کا ہر توقف جو بولتا ہے وہ شاعری ہے

    تمام دریا جو ایک سمندر میں گر رہے ہیں تو کیا عجب ہے

    وہ ایک دریا جو راستے میں ہی رہ گیا ہے وہ شاعری ہے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    احمد سلمان

    احمد سلمان

    RECITATIONS

    احمد سلمان

    احمد سلمان

    احمد سلمان

    جو دکھ رہا اسی کے اندر جو ان دکھا ہے وہ شاعری ہے احمد سلمان

    موضوعات :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY