جو دل نے کہہ دی ہے وہ بات ان کہی بھی نہ تھی

مجید امجد

جو دل نے کہہ دی ہے وہ بات ان کہی بھی نہ تھی

مجید امجد

MORE BY مجید امجد

    جو دل نے کہہ دی ہے وہ بات ان کہی بھی نہ تھی

    یہ موج تو تہ دریا کبھی رہی بھی نہ تھی

    جھکیں جو سوچتی پلکیں تو میری دنیا کو

    ڈبو گئی وہ ندی جو ابھی بہی بھی نہ تھی

    سرک گیا کوئی سایا سمٹ گیا کوئی دور

    کسی کے عکس کی پیاسی کشش سہی بھی نہ تھی

    سنی جو بات کوئی ان سنی تو یاد آیا

    وہ دل کہ جس کی کہانی کبھی کہی بھی نہ تھی

    نگر نگر وہی آنکھیں پس زماں پس در

    مری خطا کی سزا عمر گمرہی بھی نہ تھی

    کسی کی روح تک اک فاصلہ خیال کا تھا

    کبھی کبھی تو یہ دوری رہی سہی بھی نہ تھی

    نشے کی رو میں یہ جھلکا ہے کیوں نشے کا شعور

    اس آگ میں تو کوئی آب آگہی بھی نہ تھی

    غموں کی راکھ سے امجدؔ وہ غم طلوع ہوئے

    جنہیں نصیب اک آہ سحر‌ گہی بھی نہ تھی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY