جو دل پہ گزرتی ہے وہ سمجھا نہیں سکتے

شکیل بدایونی

جو دل پہ گزرتی ہے وہ سمجھا نہیں سکتے

شکیل بدایونی

MORE BYشکیل بدایونی

    جو دل پہ گزرتی ہے وہ سمجھا نہیں سکتے

    ہم دیکھنے والوں کو نظر آ نہیں سکتے

    بے قید و رسوم آئی ہیں گلشن میں بہاریں

    اب ہاتھ گریباں کی طرف جا نہیں سکتے

    رنگینئ مستقبل روشن ہے نظر میں

    ہم تلخی ماحول سے گھبرا نہیں سکتے

    مغرور نہ ہو فضل خزاں آ کے چمن میں

    ایسے بھی ہیں کچھ پھول جو مرجھا نہیں سکتے

    مانا وہ مجھے اپنی نگاہوں سے گرا دیں

    لیکن مرے احساس کو ٹھکرا نہیں سکتے

    ارباب خرد لاکھ سبک گام ہوں لیکن

    بے فیض جنوں راہ طلب پا نہیں سکتے

    مانا کہ ترے لطف و کرم خواب ہیں لیکن

    ہر شخص کو یہ خواب نظر آ نہیں سکتے

    تفسیر دو‌ عالم ہے شکیلؔ اپنا تغزل

    میدان غزل چھوڑ کے ہم جا نہیں سکتے

    مأخذ :
    • کتاب : Kulliyat-e-Shakiil Badaayuuni (Pg. 496)
    • Author : Shakiil Badaayuuni
    • مطبع : Farid Book Depot (Pvt.) Ltd

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY