جو غم حبیب سے دور تھے وہ خود اپنی آگ میں جل گئے

شاعر لکھنوی

جو غم حبیب سے دور تھے وہ خود اپنی آگ میں جل گئے

شاعر لکھنوی

MORE BYشاعر لکھنوی

    جو غم حبیب سے دور تھے وہ خود اپنی آگ میں جل گئے

    جو غم حبیب کو پا گئے وہ غموں سے ہنس کے نکل گئے

    جو تھکے تھکے سے تھے حوصلے وہ شباب بن کے مچل گئے

    جو نظر نظر سے گلے ملی تو بجھے چراغ بھی جل گئے

    نہ خزاں میں ہے کوئی تیرگی نہ بہار میں کوئی روشنی

    یہ نظر نظر کے چراغ ہیں کہیں بجھ گئے کہیں جل گئے

    غم عیش و یاس و امید کا نہ اثر حیات پہ ہو سکا

    مری روح عشق وہی رہی یہ لباس تھے جو بدل گئے

    نہ ہے شاعرؔ اب غم نو بہ نو نہ وہ داغ دل نہ وہ تازگی

    جنہیں اعتماد بہار تھا وہی پھول رنگ بدل گئے

    مأخذ :
    • کتاب : Nuquush Lahore (Pg. 366)
    • Author : Mohd Tufail
    • مطبع : Idara Farog-e-urdu, Lahore (Feb.1956 )
    • اشاعت : Feb.1956

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY