Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

جو ہم آئے تو بوتل کیوں الگ پیر مغاں رکھ دی

ریاضؔ خیرآبادی

جو ہم آئے تو بوتل کیوں الگ پیر مغاں رکھ دی

ریاضؔ خیرآبادی

MORE BYریاضؔ خیرآبادی

    جو ہم آئے تو بوتل کیوں الگ پیر مغاں رکھ دی

    پرانی دوستی بھی طاق پر اے مہرباں رکھ دی

    قفس میں شاخ گل صیاد نے اے آسماں رکھ دی

    بنا کر شاخ گل ہاں تیری شاخ کہکشاں رکھ دی

    یہ کیسی آگ بھر کر جام میں پیر مغاں رکھ دی

    جو توڑی مہر ساغر سے تو کچھ اٹھا دھواں رکھ دی

    ذرا چھیڑا جو اس نے ہو گئی ایسی زخود رفتہ

    کہ شمع بزم نے گلگیر کے لب پر زباں رکھ دی

    خدا کے ہاتھ ہے بکنا نہ بکنا مے کا اے ساقی

    برابر مسجد جامع کے ہم نے اب دکاں رکھ دی

    چمن کا لطف آتا ہے مجھے صیاد کے صدقے

    قفس میں لا کے اس نے آج شاخ آشیاں رکھ دی

    بنا ہے ایک ہی دونوں کی کعبہ ہو کہ بت خانہ

    اٹھا کر خشت خم میں نے وہاں رکھ دی یہاں رکھ دی

    یہ قیس و کوہ کن کے سے فسانے بن گئے کتنے

    کسی نے ٹکڑے ٹکڑے سب ہماری داستاں رکھ دی

    تعین سے منزہ شوخیاں ہیں اس کے جلوے کی

    ہماری وسعت دل میں بنائے لا مکاں رکھ دی

    نظر مدت سے تھی اے شیخ جس پر مے فروشوں کی

    وہ دستار فضیلت رہن ہم نے مہرباں رکھ دی

    یہ کیا تھا جلوہ ان کا دیکھنا تھا ہم کو پردے میں

    لگا کر آنکھ سے ہم نے جو تصویر بتاں رکھ دی

    یہ عالم ہے ریاضؔ ایک ایک قطرے کو ترستا ہوں

    حرم میں اب بھری بوتل خدا جانے کہاں رکھ دی

    مأخذ :
    ગુજરાતી ભાષા-સાહિત્યનો મંચ : રેખ્તા ગુજરાતી

    ગુજરાતી ભાષા-સાહિત્યનો મંચ : રેખ્તા ગુજરાતી

    મધ્યકાલથી લઈ સાંપ્રત સમય સુધીની ચૂંટેલી કવિતાનો ખજાનો હવે છે માત્ર એક ક્લિક પર. સાથે સાથે સાહિત્યિક વીડિયો અને શબ્દકોશની સગવડ પણ છે. સંતસાહિત્ય, ડાયસ્પોરા સાહિત્ય, પ્રતિબદ્ધ સાહિત્ય અને ગુજરાતના અનેક ઐતિહાસિક પુસ્તકાલયોના દુર્લભ પુસ્તકો પણ તમે રેખ્તા ગુજરાતી પર વાંચી શકશો

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

    GET YOUR PASS
    بولیے