جو ہم پہ گزرے تھے رنج سارے جو خود پہ گزرے تو لوگ سمجھے

احمد سلمان

جو ہم پہ گزرے تھے رنج سارے جو خود پہ گزرے تو لوگ سمجھے

احمد سلمان

MORE BY احمد سلمان

    جو ہم پہ گزرے تھے رنج سارے جو خود پہ گزرے تو لوگ سمجھے

    جب اپنی اپنی محبتوں کے عذاب جھیلے تو لوگ سمجھے

    وہ جن درختوں کی چھاؤں میں سے مسافروں کو اٹھا دیا تھا

    انہیں درختوں پہ اگلے موسم جو پھل نہ اترے تو لوگ سمجھے

    اس ایک کچی سی عمر والی کے فلسفہ کو کوئی نہ سمجھا

    جب اس کے کمرے سے لاش نکلی خطوط نکلے تو لوگ سمجھے

    وہ خواب تھے ہی چنبیلیوں سے سو سب نے حاکم کی کر لی بیعت

    پھر اک چنبیلی کی اوٹ میں سے جو سانپ نکلے تو لوگ سمجھے

    وہ گاؤں کا اک ضعیف دہقاں سڑک کے بننے پہ کیوں خفا تھا

    جب ان کے بچے جو شہر جاکر کبھی نہ لوٹے تو لوگ سمجھے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    احمد سلمان

    احمد سلمان

    RECITATIONS

    احمد سلمان

    احمد سلمان

    احمد سلمان

    جو ہم پہ گزرے تھے رنج سارے جو خود پہ گزرے تو لوگ سمجھے احمد سلمان

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites