جو ہوا وہ ذہن میں تھا نہیں جو تھا ذہن میں وہ ہوا نہیں
جو ہوا وہ ذہن میں تھا نہیں جو تھا ذہن میں وہ ہوا نہیں
جو گمان میں نہ تھا مل گیا جو تھا ہاتھ میں وہ ملا نہیں
وہ جو ہم میں تم میں تھا فاصلہ یہ کمال اس کے سبب ہوا
وہ سنا گیا جو کہا نہیں جو کہا گیا وہ سنا نہیں
وہی کبر ہے مری خاک میں وہی جہل ہے مری ذات میں
جو شرار ہے وہ بجھا نہیں جو چراغ ہے وہ جلا نہیں
وہی تھی ہوا وہی تھی فضا ہمیں بس پروں کو تھا کھولنا
تجھے خوف تھا تو اڑا نہیں مجھے شوق تھا میں رکا نہیں
سم ذات ہو سم کن فکاں سم غیر ہو سم دوستاں
کوئی زہر مجھ سے بچا نہیں کوئی زہر تم نے پیا نہیں
وہ تو ختم کہہ کے گزر گیا میں خیال ہجر سے مر گیا
وہ گیا تو پیچھے مڑا نہیں میں کہیں یہاں سے گیا نہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.