جو اس طرح سے میں خود کو پچھاڑ لیتا ہوں

بابر علی اسد

جو اس طرح سے میں خود کو پچھاڑ لیتا ہوں

بابر علی اسد

MORE BYبابر علی اسد

    جو اس طرح سے میں خود کو پچھاڑ لیتا ہوں

    بنا بنایا تعلق بگاڑ لیتا ہوں

    میں نا سمجھ تو نہیں رنجشوں سے لڑتا پھروں

    میں رخ بدل کے محبت کی آڑ لیتا ہوں

    جو گرد ذہن پہ گرتی ہے بد گمانی کی

    میں گاہے گاہے اسے خود ہی جھاڑ لیتا ہوں

    میں راحتوں سے کبھی مطمئن نہیں ہوتا

    میں سوچ سوچ کے خوشیاں اجاڑ لیتا ہوں

    یہ درد بھی یوں ہی اٹکھیلیاں نہیں کرتے

    کبھی کبھی میں انہیں چھیڑ چھاڑ لیتا ہوں

    تمہارے دکھ میں کوئی اور دکھ ملاتا نہیں

    میں شب گزار کے خیمہ اکھاڑ لیتا ہوں

    کتاب زیست تجھے غم نہیں تھماتا کوئی

    میں دن گزار کے صفحے کو پھاڑ لیتا ہوں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY