جو خیال تھے نہ قیاس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے

اعتبار ساجد

جو خیال تھے نہ قیاس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے

اعتبار ساجد

MORE BYاعتبار ساجد

    جو خیال تھے نہ قیاس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے

    جو محبتوں کی اساس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے

    جنہیں مانتا ہی نہیں یہ دل وہی لوگ میرے ہیں ہم سفر

    مجھے ہر طرح سے جو راس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے

    مجھے لمحہ بھر کی رفاقتوں کے سراب اور ستائیں گے

    مری عمر بھر کی جو پیاس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے

    یہ خیال سارے ہیں عارضی یہ گلاب سارے ہیں کاغذی

    گل آرزو کی جو باس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے

    جنہیں کر سکا نہ قبول میں وہ شریک راہ سفر ہوئے

    جو مری طلب مری آس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے

    مری دھڑکنوں کے قریب تھے مری چاہ تھے مرا خواب تھے

    وہ جو روز و شب مرے پاس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے

    مأخذ :
    • کتاب : Mujhe Koi Sham Udhar Do (Pg. 17)
    • Author : Aitabar Sajid
    • مطبع : Ilm o Irfan Publishers Lahore (2007,2009)
    • اشاعت : 2007,2009

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY