جو لوگ اجالے کا سب کو پیغام سنانے آتے ہیں

بوٹا خان راجس

جو لوگ اجالے کا سب کو پیغام سنانے آتے ہیں

بوٹا خان راجس

MORE BYبوٹا خان راجس

    جو لوگ اجالے کا سب کو پیغام سنانے آتے ہیں

    ان شب زادوں کی نگری میں وہ سولی پر چڑھ جاتے ہیں

    اے میرے خدا کچھ تو ہی بتا یہ دور الم کب گزرے گا

    اس بستی میں تو مصنف بھی سچ کہنے سے گھبراتے ہیں

    اس دنیا میں اپنی خاطر اک لمحہ بھی خوشیوں کا نہیں

    فریاد کہ بس اب ہم ہی ہیں جو رنج پہ رنج اٹھاتے ہیں

    اس شہر کے جتنے باسی ہیں وہ گونگے بہرے ہیں ورنہ

    ان پر بھی کھلے یہ اہل قلم لکھتے ہیں یا چلاتے ہیں

    اس دور کے بعد جو دور نیا دنیا میں آنے والا ہے

    ہم راجسؔ چپ کی پستی میں اس دور کے نغمے گاتے ہیں

    مأخذ :
    • کتاب : اردو غزل کا مغربی دریچہ(یورپ اور امریکہ کی اردو غزل کا پہلا معتبر ترین انتخاب) (Pg. 267)
    • مطبع : کتاب سرائے بیت الحکمت لاہور کا اشاعتی ادارہ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY