جو مریض عشق کے ہیں ان کو شفا ہے کہ نہیں

ولی اللہ محب

جو مریض عشق کے ہیں ان کو شفا ہے کہ نہیں

ولی اللہ محب

MORE BYولی اللہ محب

    جو مریض عشق کے ہیں ان کو شفا ہے کہ نہیں

    اے طبیب ان کی بھی دنیا میں دوا ہے کہ نہیں

    خوبرو جتنے ہیں عالم میں جفاکار ہیں سب

    یاد کیا جانیں انہیں طور وفا ہے کہ نہیں

    تنگ اتنا ہے زمانہ کہ چمن میں گل تک

    صبح دم چاک گریباں ہی صبا ہے کہ نہیں

    مری بے تابی کے احوال کو شب کے اس سے

    نامہ بر تو نے زبانی بھی کہا ہے کہ نہیں

    ظلم ہے یہ تو کہ دل لیجئے اور رہیے خفا

    کہیں انصاف زمانے میں رہا ہے کہ نہیں

    شیخ کہتے ہیں مجھے دیر نہ جا کعبہ چل

    برہمن کہتے ہیں کیوں یاں بھی خدا ہے کہ نہیں

    اپنے یاروں میں کوئی جا کے عدم سے نہ پھرا

    کیوں محبؔ ان کی خبر لانی بجا ہے کہ نہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY