جو ناشنیدہ رہے لفظ آج بولیں گے

عارج میر

جو ناشنیدہ رہے لفظ آج بولیں گے

عارج میر

MORE BYعارج میر

    جو ناشنیدہ رہے لفظ آج بولیں گے

    شگوفہ ہائے تخیل زبان کھولیں گے

    بلند ٹیلے ابھی درمیان پردہ ہیں

    ہوا اک آئے گی سب اس کے ساتھ ہو لیں گے

    قدیم اونچی عمارات پر نسب کتبے

    زمیں پہ آئیں تو سوچوں میں قند گھولیں گے

    نہ حادثات کی چادر سے ڈھک سکے اسباب

    پرند جا کے بلندی پہ بھید کھولیں گے

    جہاں پہ چھاؤں ہے آسیب ڈیرا ڈالے ہیں

    نہ دھوپ چھوڑ کہ وہ سائے میں پرو لیں گے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY