جو پوچھا منہ دکھانے آپ کب چلمن سے نکلیں گے

مضطر خیرآبادی

جو پوچھا منہ دکھانے آپ کب چلمن سے نکلیں گے

مضطر خیرآبادی

MORE BYمضطر خیرآبادی

    جو پوچھا منہ دکھانے آپ کب چلمن سے نکلیں گے

    تو بولے آپ جس دن حشر میں مدفن سے نکلیں گے

    جلے گا دل تمہیں بزم عدو میں دیکھ کر میرا

    دھواں بن بن کے ارماں محفل دشمن سے نکلیں گے

    اکٹھے کر کے تیری دوسری تصویر کھینچوں گا

    وہ سب جلوے جو چھن چھن کر تری چلمن سے نکلیں گے

    سیہ پوشاک دوش ناز پر بکھری ہوئی زلفیں

    مرے ماتم کی شرکت کو بڑے جوبن سے نکلیں گے

    ہمیں پروا نہیں اس کی قیامت لاکھ بار آئے

    نہ تم مدفن پہ آؤ گے نہ ہم مدفن سے نکلیں گے

    ترے دامن سے بدلا لیں گے ظالم خون ناحق کا

    وہ فوارے لہو کے جو مری گردن سے نکلیں گے

    یہی رشتہ جنون عاشقی کا ہے تو کچھ دن میں

    مرے تار گریباں یار کے دامن سے نکلیں گے

    ہزاروں حسن والے اس زمیں میں دفن ہیں مضطرؔ

    قیامت ہوگی جب یہ سب کے سب مدفن سے نکلیں گے

    مأخذ :
    • کتاب : Khirman  (Part-11) (Pg. 72)
    • Author : Muztar Khairabadi
    • مطبع : Javed Akhtar (2015)
    • اشاعت : 2015

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY