جدا کریں گے نہ ہم دل سے حسرت دل کو

وحشتؔ رضا علی کلکتوی

جدا کریں گے نہ ہم دل سے حسرت دل کو

وحشتؔ رضا علی کلکتوی

MORE BYوحشتؔ رضا علی کلکتوی

    جدا کریں گے نہ ہم دل سے حسرت دل کو

    عزیز کیوں نہ رکھیں زندگی کے حاصل کو

    نہاں اگرچہ ہے محفل سے سوز دل میرا

    مگر یہ راز ہے معلوم شمع محفل کو

    وہ طول کھینچا بلا کا ترے تغافل نے

    کہ صبر آ ہی گیا میرے مضطرب دل کو

    کٹھن ہے کام تو ہمت سے کام لے اے دل

    بگاڑ کام نہ مشکل سمجھ کے مشکل کو

    وہ کام میرا نہیں جس کا نیک ہو انجام

    وہ راہ میری نہیں جو گئی ہو منزل کو

    خبر ہوئی نہ انہیں میرے مضطرب دل کی

    غلط خیال ہے یہ دل سے راہ ہے دل کو

    بلا کی ہوتی ہے وحشتؔ کی بھی غزل خوانی

    کہ اک سرور سا ہوتا ہے اہل محمل کو

    مآخذ:

    • کتاب : Karwaan-e-Ghazal (Pg. 65)
    • Author : Farooq Argali
    • مطبع : Farid Book Depot (Pvt.) Ltd (2004)
    • اشاعت : 2004

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY