جدا اس جسم سے ہو کر کہیں تحلیل ہو جاتا

ضمیر اترولوی

جدا اس جسم سے ہو کر کہیں تحلیل ہو جاتا

ضمیر اترولوی

MORE BYضمیر اترولوی

    جدا اس جسم سے ہو کر کہیں تحلیل ہو جاتا

    فنا ہوتے ہی لافانی میں میں تبدیل ہو جاتا

    مرے پیچھے اگر ابلیس کو آنے نہ دیتا تو

    سراپا میں ترے ہر حکم کی تعمیل ہو جاتا

    جو ہوتا اختیار اپنے مقدر کو بدلنے کا

    تمناؤں کی میں اک صورت تکمیل ہو جاتا

    مجھے پہچان کر کوئی زمانے کو بتا دیتا

    تو مثل نکہت گلزار میں ترسیل ہو جاتا

    کرشمہ یہ بھی ہو جاتا ترے ادنیٰ تعاون سے

    مجھے تو سوچتا تو میں تری تخئیل ہو جاتا

    زمیں پیاسی ضمیرؔ انسان بھی پیاسے نہیں رہتے

    اگر دریا میں بن جاتا اگر میں جھیل ہو جاتا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY