جدائی مجھ کو مارے ڈالتی ہے

مضطر خیرآبادی

جدائی مجھ کو مارے ڈالتی ہے

مضطر خیرآبادی

MORE BYمضطر خیرآبادی

    جدائی مجھ کو مارے ڈالتی ہے

    دہائی مجھ کو مارے ڈالتی ہے

    تمہارے عشق میں دنیا ہے دشمن

    خدائی مجھ کو مارے ڈالتی ہے

    حسینوں کی گلی ہے اور میں ہوں

    گدائی مجھ کو مارے ڈالتی ہے

    تری جلاد آنکھوں کی ستم گر

    صفائی مجھ کو مارے ڈالتی ہے

    اسیری میں مزا تھا فصل گل کا

    رہائی مجھ کو مارے ڈالتی ہے

    خفا ہیں وہ دعاؤں کے اثر پر

    رسائی مجھ کو مارے ڈالتی ہے

    کیے دیتا ہے قاتل ذبح مضطرؔ

    کلائی مجھ کو مارے ڈالتی ہے

    مأخذ :
    • کتاب : Khirman (Part-1) (Pg. 212)
    • Author : Muztar Khairabadi
    • مطبع : Javed Akhtar (2015)
    • اشاعت : 2015

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY