جگنو تھا تارا تھا کیا تھا

جینت پرمار

جگنو تھا تارا تھا کیا تھا

جینت پرمار

MORE BYجینت پرمار

    جگنو تھا تارا تھا کیا تھا

    دروازے پر کون کھڑا تھا

    صدیاں بیتیں دروازے پر

    کام فقط تو پل بھر کا تھا

    پھنسی ہوئی تھی ڈور پنکھ میں

    اک چڑیا کا حال برا تھا

    سب کچھ زیر زبر کر ڈالا

    تیز ہوا کو کس سے گلہ تھا

    پتوں نے جب مٹی بجائی

    میں اک مصرعہ ڈھونڈ رہا تھا

    نظم کے روشن سیارے پر

    میں نے اپنا نام لکھا تھا

    میں نے اپنا نام لکھا تھا

    جگنو تھا تارا تھا کیا تھا

    RECITATIONS

    جینت پرمار

    جینت پرمار,

    جینت پرمار

    جگنو تھا تارا تھا کیا تھا جینت پرمار

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے