جنبش ارض و سماوات میں آئے ہوئے ہیں

زعیم رشید

جنبش ارض و سماوات میں آئے ہوئے ہیں

زعیم رشید

MORE BYزعیم رشید

    جنبش ارض و سماوات میں آئے ہوئے ہیں

    ان دنوں گردش حالات میں آئے ہوئے ہیں

    اب جو تو چاہے جہاں چاہے ہمیں لے جائے

    کیا کریں ہم جو ترے ہاتھ میں آئے ہوئے ہیں

    میں اکیلا ہی نہیں آیا تجھے دیکھنے کو

    کچھ ستارے بھی مرے ساتھ میں آئے ہوئے ہیں

    اے مہ چار دہم تیری خوشی کی خاطر

    اک سیہ رات کی بہتات میں آئے ہوئے ہیں

    میں بھی دن رات یہاں کوزہ گری کرتا ہوں

    اس کے سب رنگ مری ذات میں آئے ہوئے ہیں

    عشق خود آپ خرافات تمنا ہے زعیمؔ

    اس لیے دشت خرافات میں آئے ہوئے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY