جنون کارگر ہے اور میں ہوں

فراق گورکھپوری

جنون کارگر ہے اور میں ہوں

فراق گورکھپوری

MORE BY فراق گورکھپوری

    جنون کارگر ہے اور میں ہوں

    حیات بے خبر ہے اور میں ہوں

    مٹا کر دل نگاہ اولیں سے

    تقاضائے دگر ہے اور میں ہوں

    کہاں میں آ گیا اے زور پرواز

    وبال بال و پر ہے اور میں ہوں

    نگاہ اولیں سے ہو کے برباد

    تقاضائے دگر ہے اور میں ہوں

    مبارک باد ایام اسیری

    غم دیوار و در ہے اور میں ہوں

    تری جمعیتیں ہیں اور تو ہے

    حیات منتشر ہے اور میں ہوں

    کوئی ہو سست پیماں بھی تو یوں ہو

    یہ شام بے سحر ہے اور میں ہوں

    نگاہ بے محابا تیرے صدقے

    کئی ٹکڑے جگر ہے اور میں ہوں

    ٹھکانا ہے کچھ اس عذر ستم کا

    تری نیچی نظر ہے اور میں ہوں

    فراقؔ اک ایک حسرت مٹ رہی ہے

    یہ ماتم رات بھر ہے اور میں ہوں

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    جنون کارگر ہے اور میں ہوں نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY