جنوں کا رنگ بھی ہو شعلۂ نمو کا بھی ہو

افتخار عارف

جنوں کا رنگ بھی ہو شعلۂ نمو کا بھی ہو

افتخار عارف

MORE BY افتخار عارف

    جنوں کا رنگ بھی ہو شعلۂ نمو کا بھی ہو

    سکوت شب میں اک انداز گفتگو کا بھی ہو

    میں جس کو اپنی گواہی میں لے کے آیا ہوں

    عجب نہیں کہ وہی آدمی عدو کا بھی ہو

    وہ جس کے چاک گریباں پہ تہمتیں ہیں بہت

    اسی کے ہاتھ میں شاید ہنر رفو کا بھی ہو

    وہ جس کے ڈوبتے ہی ناؤ ڈگمگانے لگی

    کسے خبر وہی تارا ستارہ جو کا بھی ہو

    ثبوت محکمیٔ جاں تھی جس کی برش ناز

    اسی کی تیغ سے رشتہ رگ گلو کا بھی ہو

    وفا کے باب میں کار سخن تمام ہوا

    مری زمین پہ اک معرکہ لہو کا بھی ہو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY