جنوں کے جوش میں انسان رسوا ہو ہی جاتا ہے

مضطر خیرآبادی

جنوں کے جوش میں انسان رسوا ہو ہی جاتا ہے

مضطر خیرآبادی

MORE BYمضطر خیرآبادی

    جنوں کے جوش میں انسان رسوا ہو ہی جاتا ہے

    گریباں پھاڑنے سے فاش پردا ہو ہی جاتا ہے

    محبت خوف رسوائی کا باعث بن ہی جاتی ہے

    طریق عشق میں اپنوں سے پردا ہو ہی جاتا ہے

    جوانی وصل کی لذت پہ راغب کر ہی دیتی ہے

    تمہیں اس بات کا غم کیوں ہے ایسا ہو ہی جاتا ہے

    بگڑتے کیوں ہو آپس میں شکایت کر ہی لیتے ہیں

    عدو کا تذکرہ دشمن کا چرچا ہو ہی جاتا ہے

    تمہاری نرگس بیمار اچھا کر ہی دیتی ہے

    جسے تم دیکھ لیتے ہو وہ اچھا ہو ہی جاتا ہے

    اکیلا پا کے ان کو عرض مطلب کر ہی لیتا ہوں

    نہ چاہوں تو بھی اظہار تمنا ہو ہی جاتا ہے

    مرا دعوئ عشق اغیار باطل کر ہی دیتے ہیں

    جسے جھوٹا بنا لیں یار جھوٹا ہو ہی جاتا ہے

    بتان بے وفا مضطرؔ دل و دیں کر ہی لیتے ہیں

    تمہیں پر کچھ نہیں موقوف ایسا ہو ہی جاتا ہے

    مأخذ :
    • کتاب : Khirman (Part-1) (Pg. 87)
    • Author : Muztar Khairabadi
    • مطبع : Javed Akhtar (2015)
    • اشاعت : 2015

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY