جنوں سے کھیلتے ہیں آگہی سے کھیلتے ہیں

محبوب خزاں

جنوں سے کھیلتے ہیں آگہی سے کھیلتے ہیں

محبوب خزاں

MORE BYمحبوب خزاں

    جنوں سے کھیلتے ہیں آگہی سے کھیلتے ہیں

    یہاں تو اہل سخن آدمی سے کھیلتے ہیں

    نگار مے کدہ سب سے زیادہ قابل رحم

    وہ تشنہ کام ہیں جو تشنگی سے کھیلتے ہیں

    تمام عمر یہ افسردگان محفل گل

    کلی کو چھیڑتے ہیں بے کلی سے کھیلتے ہیں

    فراز عشق نشیب جہاں سے پہلے تھا

    کسی سے کھیل چکے ہیں کسی سے کھیلتے ہیں

    نہا رہی ہے دھنک زندگی کے سنگم پر

    پرانے رنگ نئی روشنی سے کھیلتے ہیں

    جو کھیل جانتے ہیں ان کے اور ہیں انداز

    بڑے سکون بڑی سادگی سے کھیلتے ہیں

    خزاںؔ کبھی تو کہو ایک اس طرح کی غزل

    کہ جیسے راہ میں بچے خوشی سے کھیلتے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے