جنوں سکون خرد اضطراب چاہتی ہے

شوکت واسطی

جنوں سکون خرد اضطراب چاہتی ہے

شوکت واسطی

MORE BYشوکت واسطی

    جنوں سکون خرد اضطراب چاہتی ہے

    طبیعت آج نیا انقلاب چاہتی ہے

    نہ آج تیری نظر سے برس رہا ہے نشہ

    نہ میری تشنہ لبی ہی شراب چاہتی ہے

    نہیں سرور مسلسل نباہ پر موقوف

    مدام آنکھ کہاں لطف خواب چاہتی ہے

    سنا رہا ہوں فسانہ تری محبت کا

    یہ کائنات عمل کا حساب چاہتی ہے

    وہ عزم ہائے سفر لا زوال ہوتے ہیں

    حیات موت کو جب ہم رکاب چاہتی ہے

    جھلس رہا ہے بدن دھوپ میں جوانی کی

    یہ آگ زلف کا گہرا سحاب چاہتی ہے

    حریف حسن و محبت ہو دیر تک شوکتؔ

    نگار عمر وہ عہد شباب چاہتی ہے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY