وہ جو اعتبار جمال تھے وہ کہاں گئے

خالد محمود ذکی

وہ جو اعتبار جمال تھے وہ کہاں گئے

خالد محمود ذکی

MORE BYخالد محمود ذکی

    وہ جو اعتبار جمال تھے وہ کہاں گئے

    وہ جو آپ اپنی مثال تھے وہ کہاں گئے

    کبھی ہر طرف کوئی دل کشی سی محیط تھی

    اسی دشت میں جو غزال تھے وہ کہاں گئے

    کہیں ایک پل کو بھی تو نظر نہیں آ رہا

    غم دل ترے مہ و سال تھے وہ کہاں گئے

    وہ جو خواب لے کے چلے تھے ہم وہ کہاں گیا

    وہ جو اس کے غم میں نڈھال تھے وہ کہاں گئے

    کبھی پہروں اس کا بس اک اسی کا خیال تھا

    وہ جو ہجر تھے جو وصال تھے وہ کہاں گئے

    کبھی پہلے جب وہ ملا تھا ویسا نہیں رہا

    کئی رنگ اس میں کمال تھے وہ کہاں گئے

    یہ جو لوگ میرے قریب ہیں یہ کہاں کے ہیں

    وہ جو حسن خواب و خیال تھے وہ کہاں گئے

    موضوعات :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY