کافی نہیں خطوط کسی بات کے لئے

انور شعور

کافی نہیں خطوط کسی بات کے لئے

انور شعور

MORE BYانور شعور

    کافی نہیں خطوط کسی بات کے لئے

    تشریف لائیے گا ملاقات کے لئے

    دنیا میں کیا کسی سے کسی کو غرض نہیں

    ہر کوئی جی رہا ہے فقط ذات کے لئے

    ہم بارگاہ ناز میں اس بے نیاز کی

    پیدا کئے گئے ہیں شکایات کے لئے

    ہیں پتھروں کی زد پہ تمہاری گلی میں ہم

    کیا آئے تھے یہاں اسی برسات کے لئے

    اپنی طرف سے کچھ بھی انہوں نے نہیں کہا

    ہم نے جواب صرف سوالات کے لئے

    روشن کرو نہ شام سے پہلے چراغ جام

    دن کے لئے یہ چیز ہے یا رات کے لئے

    مہنگائی راہ راست پہ لے آئی کھینچ کر

    بچتی نہیں رقم بری عادات کے لئے

    کرنے کے کام کیوں نہیں کرتے شعورؔ تم

    کیا زندگی ملی ہے خرافات کے لئے

    مأخذ :
    • کتاب : Dil Ka Kia Rang Karoon (Pg. 40)
    • Author : Anwer Shaoor
    • مطبع : Syed Farid Hussain (2014)
    • اشاعت : 2014

    موضوعات :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY