کانٹے چننا پھول بچھانا

حبیب کیفی

کانٹے چننا پھول بچھانا

حبیب کیفی

MORE BYحبیب کیفی

    کانٹے چننا پھول بچھانا

    رستہ یوں آسان بنانا

    لاکھ جلایا اس نے لیکن

    زندہ ہے پھر بھی پروانہ

    اس کو اپنا کر لینا تو

    یا پھر اس کا ہی ہو جانا

    مشورہ بھی کر لیں گے ہم

    پہلے تو گھر آ جانا

    حسن تو اک دن ڈھل جاتا ہے

    حسن پہ اتنا کیا اترانا

    ٹھوکر میں دنیا رکھا ہے

    آیا جس کو ٹھوکر کھانا

    جب ذرا آنکھیں کھلتی ہیں

    کھلتا ہے پورا مے خانہ

    لوگ گہرا کر دیتے ہیں

    زخم نہ اپنا کوئی دکھانا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY