کانٹے ہی کانٹے ہیں تا حد نظر

کمال جعفری

کانٹے ہی کانٹے ہیں تا حد نظر

کمال جعفری

MORE BYکمال جعفری

    کانٹے ہی کانٹے ہیں تا حد نظر

    پھر بھی تازہ ہے مرا عزم سفر

    رہزنوں کی رہنمائی دیکھ کر

    آج تھراتی ہے اک اک رہ گزار

    ڈھو رہے ہو کس لئے پتھر کا بوجھ

    ہو گئے مسمار سب شیشے کے گھر

    چلئے ویرانوں میں بسنے کے لئے

    شہر تو بربادیوں کے ہیں کھنڈر

    آ گئی صبح طرب تو کیا ہوا

    سونا سونا ہے مرے دل کا نگر

    جن سے ہوتا ہے فروغ آذری

    آہ وہ کس کام کے علم و ہنر

    کامرانی پاؤں چومے گی کمالؔ

    دیکھیے غیروں کا دامن چھوڑ کر

    مآخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY