کب دل شکست گاں سے کر عرض حال آیا

محمد رفیع سودا

کب دل شکست گاں سے کر عرض حال آیا

محمد رفیع سودا

MORE BYمحمد رفیع سودا

    کب دل شکست گاں سے کر عرض حال آیا

    ہے بے صدا وہ چینی جس میں کہ بال آیا

    سینے سے میں دعا کو لایا جو شب لبوں تک

    کہنے لگی اجابت کیدھر خیال آیا

    کونین تک ملی تھی جس دل کی مجھ کو قیمت

    قسمت کہ یک نگہ پر جا اس کو ڈال آیا

    بخشش پہ دو جہاں کے آئی تھی ہمت دہر

    لیکن نہ یاں زباں تک حرف سوال آیا

    نازاں نہ ہو تو اس پر گر تجھ کو سنگ میں سے

    گوہر نکالنے کا کسب و کمال آیا

    ارباب فہم آگے وہ صاحب ہنر ہے

    کینہ کسی کے دل سے جس کو نکال آیا

    دیر خراب میں کل اک مست کی زباں پر

    یہ شعر اس جگہ کے کیا حسب حال آیا

    اعمال دیکھ تیرے مے شرم سے عرق ہے

    اے محتسب تجھے بھی کچھ انفعال آیا

    ملنے کا ایک دم بھی یاں ضعف دل ہے مانع

    اکتا کے اٹھ گیا وہ تب میں بحال آیا

    نخل حیات اپنا گلشن میں باغباں نے

    بویا تو تھا ہوس کر لیکن نہ پال آیا

    اکسیر ہے تو کیا ہے وہ مشت خاک سوداؔ

    خاطر پہ جب کسی کی جس سے ملال آیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY